Friday, April 2, 2021

(Bang-e-Dra-101) Tarana-e-Milli

ترانۂ ملی

Tarana-e-Milli
The Anthem Of The Islamic Community
چِین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

معانی: ترانہ ملی: قومی گیت ۔ سارا جہاں وطن ہونا: مراد مسلمان جغرافیائی حدوں کا قائل نہیں ۔
Cheen-o-Arab Humara, Hindustan Humara
Muslim Hain Hum, Watan Hai Sara Jahan Humara

China and Arabia are ours; India is ours.
We are Muslims, the whole world is ours.

چِین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا

معانی: توحید: خدا کی وحدت، صرف ایک معبود ۔ امانت: مراد عقیدہ ۔ سینوں میں : دلوں میں ۔ نام و نشاں : مراد ہستی، وجود ۔
Touheed Ki Amanat Seenon Mein Hai Humare
Asan Nahin Nitana Naam-o-Nishan Humara

God’s unity is held in trust in our hearts.
It is not easy to erase our name and sign.

توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
دنیا کے بُت‌کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اُس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا

معانی: پہلا وہ گھر خدا کا : کعبہ شریف کی تعمیر حضرت ابراہم نے کی تھی ۔ پاسباں : حفاظت کرنے والا ۔
Dunya Ke Butkadon Mein Pehla Woh Ghar Khuda Ka
Hum Uss Ke Pasban Hain, Woh Pasban Humara

Among the idol temples of the world the first is that house of God;
We are its keepers; it is our keeper.

دنیا کے بُت‌کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا ہم اُس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا
تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

معانی: تیغوں کے سایہ: یعنی بزرگوں نے جو جہاد کیے ۔ پل کر جواں ہوئے ہیں : مراد ہمارے خمیر، فطرت میں اپنے بزرگوں والا جذبہَ جہاد ہے ۔ ہلال: پہلی کے چاند کو خنجر کہا ۔ قومی نشاں : مراد ہندوستان کے مسلمانوں کا اسلامی نشان
Taighon Ke Saye Mein Hum Pal Kar Jawan Huwe Hain
Khanjar Hilal Ka Hai Qoumi Nishan Humara

Brought up in the shadow of the sword, we reached maturity;
The scimitar of the crescent moon is the emblem of our community.

تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری
تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا
معانی: مغرب کی وادیاں : مراد یورپ کے ملک، شہر یعنی سپین وغیرہ ۔ گونجی اذاں ہماری: ہماری اذانوں کی آواز بلند ہوئی ۔ سیلِ رواں : مراد بڑھتے ہوئے عظیم لشکر ۔

Maghrib Ki Wadiyon Mein Goonji Azan Humari
Thamta Na Tha Kisi Se Seel-e-Rawan Humara

In the valleys of the west our call to prayer resounded;
Our onward flow was never stemmed by anyone.

مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سَو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا
Batil Se Dabne Wale Ae Asman Nahin Hum
Sou Baar Kar Chuka Hai Tu Imtihan Humara

We, oh heaven, are not to be suppressed by falsehood!
A hundred times you have tested us.

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم سَو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا
اے گلِستانِ اندلس! وہ دن ہیں یاد تجھ کو
تھا تیری ڈالیوں پر جب آشیاں ہمارا

معانی: تھا تیری ڈالیوں پر جب آشیاں ہمارا: مذکورہ حکومت کی طرف اشارہ ہے
Ae Gulistan-e-Aundlas ! Woh Din Hain Yaad Tujh Ko
Tha Teri Daliyon Par Jab Ashiyan Humara

Oh garden of Andalusia! Do you remember those days,
When our nest was in your branches?

اے گلِستانِ اندلس! وہ دن ہیں یاد تجھ کو تھا تیری ڈالیوں پر جب آشیاں ہمارا
اے موجِ دجلہ! تُو بھی پہچانتی ہے ہم کو
اب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا
معانی: دجلہ: دریائے دجلہ جس کے کنارے شہر بغداد آباد ہے ۔

Ae Mouj-e-Dajla! Tu Bhi Pehchanti Hai Hum Ko
Ab Tak Hai Tera Darya Afsana Khawan Humara

Oh waves of the Tigris! You also recognize us;
Your river still relates our story.

اے موجِ دجلہ! تُو بھی پہچانتی ہے ہم کو اب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں ہمارا
اے ارضِ پاک! تیری حُرمت پہ کٹ مرے ہم
ہے خُوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا
معانی: ارضِ پاک: مراد سرزمین حجاز جس کی حدود میں مکہ و مدینہ واقع ہیں ۔ کٹ مرنا: جہاد میں شہید ہونا ۔ خوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا: مراد حجاز کی عزت و توقیر بڑھانے کے لیے مسلمانوں نے کس قدر قربانیاں دیں ۔

مطلب: اے سرزمین حجاز! کیا تو اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ ہم نے تیری عزت و حرمت کے لیے ہمیشہ اپنی جانیں قربان کی ہیں اور آج بھی تیری رگوں میں ہمارا خون رواں دواں ہے ۔

Ae Arz-e-Pak! Teri Hurmat Pe Kat Mare Hum
Hai Khoon Teri Ragon Mein Ab Tak Rawan Humara

Oh land of purity! We fell and died for your honour;
 Our blood still courses through your veins.

اے ارضِ پاک! تیری حُرمت پہ کٹ مرے ہم ہے خُوں تری رگوں میں اب تک رواں ہمارا
سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا
اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا
معانی سالارِ کارواں : قافلے کا سربراہ ملت اسلامیہ کے سالار ۔ آرامِ جاں : روح کا سکون ۔

Salar-e-Karwan Hai Meer-e-Hijaz (S.A.W.) Apna
Iss Naam Se Hai Baqi Aram-e-Jaan Humara

The Lord of Hijaz is the leader of our community;
From this name comes the peace of our soul.

سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا


اقبالؔ کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا
ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

Iqbal Ka Tarana Bang-e-Dra Hai Goya
Hota Hai Jadah Pema Phir Karwan Humara

Iqbal’s song is like the bell of a caravan;
Once more our caravan measures the road.

اقبالؔ کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا


(Bang-e-Dra-128) Fatima Bint-e-Abdullah



Fatima Bint Abdullah

عرب لڑکی جو طرابلس کی جنگ میں غازیوں کو پانی پِلاتی ہوئی شہید ہُوئی

Arab Larki Jo Tarablas Ki Jang Mein Ghaziyon Ko Pani Pilati Huwi Shaheed Huwi
(1912)
(ستمبر ۱۹۱۱ء میں اٹلی نے طرابلس پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت ترکی کے پاس صرف دو جنگی جہاز تھے اور وہ بھی مرمت طلب۔ نہ توپیں تھیں، نہ گولہ بارود اور نہ فوج ہی کو کائی انتظام تھا، نہ کھانے پینے کا بندوبست یہاں تک کہ مردوں کو کفن اور زخمیوں کا علاج کرنے کو بھی کچھ نہ تھا۔ میدانی فوج کا راستہ انگریزوں نے مصر کی ناکہ بندی کرکے روک دیا تھا، اس لیےعربوں کے دینی اور دنیاوی قائد شیح سنوسی مرحوم نے "جہاد" کا اعلان کردیا اور نہتے مسلمان سر سے کفن باندھ کر میدان میں آگئے۔ اس بے کسی کے عالم میں ایک چودہ سالہ لڑکی فاطمہ بنتِ عبداللہ جذبۂ دینی میں اپنی جان پر کھیل کر پانی کا مشکیزہ کاندھے پر اُٹھائے ہوئے زخمیوں کو پانی پلاتی پھرتی تھی۔ ۱۲ نومبر ۱۹۱۳ء کو اس شیر دل عرب لڑکی کے شہید ہونے کا حال اخبار میں شائع ہوا۔ علامہ کا دل مسلمانوں کی اس حالت ِ زار سے بے حد متاثر تھا۔ اس خبر نے انہیں اور بھی بے قرار کر دیا اور یہ نظم لکھ دی۔ اس نظم نے فاطمہ کو زندۂ جاوید بنا دیا اور جدید دور کے نوجوانوں کو راہِ عمل دکھا دی۔

فاطمہ! تُو آبرُوئے اُمّتِ مرحوم ہے
ذرّہ ذرّہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے
معانی: امت مرحوم: وہ امت جس پر اللہ کی رحمت ہوئی ہو، ملت اسلامیہ ۔ مشتِ خاک: مراد جسم ۔ معصوم: گناہوں سے پاک ۔

Fatima! Tu Abroo-e-Ummat-e-Marhoom Hai
Zarra Zarra Teri Musht-e-Khak Ka Masoom Hai

Fatima, you are the pride of the Community ‐God bless it!
Your dust is holy, every particle of it.

فاطمہ! تُو آبرُوئے اُمّتِ مرحوم ہے ذرّہ ذرّہ تیری مُشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ سعادت، حُورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی
غازیانِ دیں کی سقّائی تری قسمت میں تھی

معانی: حورِ صحرائی: عرب لڑکی ہونے کے سبب ریگستانی حور کہا ہے ۔ غازیان: جمع غازی، باطل کے خلاف جہاد کرنے والے ۔ سقائی: پانی پلانے کا عمل ۔
Ye Sa’adat, Hoor-e-Sehrayi! Teri Qismat Mein Thi
Ghaziyan-e-Deen Ki Saqqayi Teri Qismat Mein Thi

You, houri of the desert,were fated to win such merit!
To give the soldiers of Islam water to drink was to be your good fortune.

یہ سعادت، حُورِ صحرائی! تری قسمت میں تھی غازیانِ دیں کی سقّائی تری قسمت میں تھی
یہ جہاد اﷲ کے رستے میں بے تیغ و سِپَر
ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر

معانی: بے تیغ و سپر: تلوار اور ڈھال یعنی جنگی ہتھیاروں کے بغیر ۔ جسارت آفریں : دلیری پیدا کرنے والا ۔ شہادت: اللہ کی راہ میں جان دینا ۔ کس قدر: بہت زیادہ ۔
Ye Jihad Allah Ke Raste Mein Be-Taegh-o-Sipar
Hai Jasarat Afreen Shauq-e-Shahadat Kis Qaddar

A jihad in the way of God, waged without sword or shield!
What courage the love of martyrdom gives!

یہ جہاد اﷲ کے رستے میں بے تیغ و سِپَر ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر
یہ کلی بھی اس گُلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!

معانی: گلستانِ خزاں منظر: اجڑی ہوئی یا زوال کی ماری قوم ۔ خاکستر: راکھ، یعنی ماضی کے مجاہدوں کی موجودہ نسل جو ایسے جذبے سے خالی ہے ۔
Ye Kali Bhi Iss Gulistan-e-Khazan Manzar Mein Thi
Aesi Chingari Bhi Ya Rab, Apni Khakstar Mein Thi

O that in our autumn‐stricken garden there were flower‐buds like this!
O that a spark like this, dear Lord, could be found in our ashes!

یہ کلی بھی اس گُلستانِ خزاں منظر میں تھی ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!
اپنے صحرا میں بہت آہُو ابھی پوشیدہ ہیں
بجلیاں برسے ہُوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں!

معانی: صحرا : مراد قوم، ملت ۔ بجلیاں جمع بجلی مراد جہاد کے جذبے ۔ برسے ہوئے بادل: ماضی کے عظیم مجاہدوں کی موجود ہ نسل، قوم ۔ خوابیدہ: سوئی ہوئیں یعنی موجود ۔
Apne Sehra Mein Bohat Aahu Abhi Poshida Hain
Bijliyan Barse Huway Badal Mein Bhi Khawabida Hain!

In our desert many deer still hide! and in the spent clouds
Many flashes of lightning still lie dormant!

اپنے صحرا میں بہت آہُو ابھی پوشیدہ ہیں بجلیاں برسے ہُوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں!
فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
نغمۀ عشرت بھی اپنے نالۀ ماتم میں ہے

معانی: شبنم افشاں : آنسو بہانے والی ۔ نغمہَ عشرت: خوشی و مسرت کا گیت ۔ نالہَ ماتم: مرنے والے کے غم میں رونا ۔
Fatima! Go Shabnam Afshan Ankh Tere Gham Mein Hai
Naghma-e-Ishrat Bhi Apne Nala-e-Matam Mein Hai

Fatima, though our grieving eyes weep tears like dew over you,
Our dirge is also a celebration song.

فاطمہ! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے نغمۀ عشرت بھی اپنے نالۀ ماتم میں ہے
رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے
ذرّہ ذرّہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے

معانی: رقص: ناچ، تحریک ۔ نشاط انگیز: مراد خوشیوں مسرتوں سے بھرا ہوا ۔ زندگی کاسوز: زندگی کی حرارت ۔ لبریز: بھرا ہوا ۔
Raqs Teri Khak Ka Kitna Nishat Angaiz Hai
Zarra Zarra Zindagi Ke Souz Se Labraiz Hai

How thrilling is the dance of your dust,
Every atom of which is charged with life.

رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے ذرّہ ذرّہ زندگی کے سوز سے لبریز ہے
ہے کوئی ہنگامہ تیری تُربتِ خاموش میں
پل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میں

معانی: تربت: قبر، مزار ۔ قومِ تازہ: نئی قوم، نئی نسل ۔
Hai Koi Hangama Teri Turbat-e-Khamosh Mein
Pal Rahi Hai Aik Qoum-e-Taza Iss Aghosh Mein

There is stirring in your quiet grave:
Within it a new nation is being reared.

ہے کوئی ہنگامہ تیری تُربتِ خاموش میں پل رہی ہے ایک قومِ تازہ اس آغوش میں
بے خبر ہوں گرچہ اُن کی وسعتِ مقصد سے میں
آفرینش دیکھتا ہوں اُن کی اس مرقد سے میں

معانی: وسعتِ مقصد: ارادے یا غرض کا پھیلاوَ ۔ آفرینش: پیدائش، ولادت، وجود میں آنا ۔ مرقد: آرام گاہ، قبر ۔
Bekhabar Hun Gharche Un Ki Wusaat Se Mein
Afreenash Dekhta Hun Un Ki Iss Marqad Se Mein

Though I know nothing of the range of its ambition,
I see them spring to life from this tomb.

بے خبر ہوں گرچہ اُن کی وسعتِ مقصد سے میں آفرینش دیکھتا ہوں اُن کی اس مرقد سے میں
تازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہور
دیدۀ انساں سے نامحرم ہے جن کی موجِ نور

معانی: تازہ انجم: نئے نئے ستارے، یعنی روشن دل مسلمان ۔ فضائے آسمان: مراد دنیا ۔ دیدہ: آنکھ ۔ نامحرم: ناواقف، بے خبر ۔ موجِ نور: روشنی کی لہر ۔
Taza Anjum Ka Faza’ay Asman Mein Hai Zahoor
Didah’ay Insan Se Na-Mehram Hai Jin Ki Mouj-e-Noor

New stars are appearing in the sky above,
Stars whose rolling waves of light have not been seen by the eyes of man;

تازہ انجم کا فضائے آسماں میں ہے ظہور دیدۀ انساں سے نامحرم ہے جن کی موجِ نور
جو ابھی اُبھرے ہیں ظُلمت خانۀ ایّام سے
جن کی ضَو ناآشنا ہے قیدِ صبح و شام سے

معانی: ظلمت خانہَ ایام: زمانے کا تاریک گھر، اس دور کی تاریکیاں ۔ ضو: روشنی ۔
Jo Abhi Ubhre Hain Zulmat Khana’ay Ayyam Se
Jin Ki Zou Na Ashna Hai Qaid-e-Subah-o-Sham Se

Stars just risen out of the dark dungeon of time,
Stars whose light is not hostage to day and night;

جو ابھی اُبھرے ہیں ظُلمت خانۀ ایّام سے جن کی ضَو ناآشنا ہے قیدِ صبح و شام سے
جن کی تابانی میں اندازِ کُہن بھی، نَو بھی ہے
اور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتَو بھی ہے

معانی: تابانی: چمک ۔ اندازِ کہن: پرانے طور طریقے ۔ نو: نئے ۔ کوکب تقدیر: مقدر کا ستارہ ۔ پرتو: روشنی، عکس ۔
Jin Ki Tabani Mein Andaz-e-Kuhan Bhi, Nau Bhi Hai
Aur Tere Koukab-e-Taqdeer Ka Parto Bhi Hai

Stars whose radiance is both old and new,
And partakes of the splendor of the star of your destiny too.

جن کی تابانی میں اندازِ کُہن بھی، نَو بھی ہے اور تیرے کوکبِ تقدیر کا پرتَو بھی ہے



Tuesday, March 30, 2021

(Bang-e-Dra-014) Shama-o-Parwana

شمع و پروانہ

Shama-o-Parwana
Moth And Candle
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع! پیار کیوں
یہ جانِ بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں

معانی: جانِ بے قرار: محبت کے سبب بے چین روح ۔
Parwana Tujh Se Karta Hai Ae Shama! Pyar Kyun
Ye Jaan-e-Be-Qarar Hai Tujh Par Nisar Kyun

Why is the moth your lover, O flame,
Giving life in a yielding move?

پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع! پیار کیوں یہ جانِ بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے
آدابِ عشق تُو نے سِکھائے ہیں کیا اسے؟

معانی : سیماب وار: پارے کی طرح، مراد ہر گھڑی بے چین ۔
Seemabwaar Rakhti Hai Teri Ada Isse
Adab-e-Ishq Tu Ne Sikhaye Hain Kya Isse?

You make its ways the quicksilver’s ways.
You taught it, what rites of love?

سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے آدابِ عشق تُو نے سِکھائے ہیں کیا اسے؟
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا
پھُونکا ہُوا ہے کیا تری برقِ نگاہ کا؟

معانی: پھونکا ہوا: جلایا ہوا ۔ برقِ نگاہ: نگاہوں کی بجلی ۔
Karta Hai Ye Tawaf-e-Teri Jalwagah Ka
Phoonka Huwa Hai Kya Teri Barq-e-Nigah Ka?

The creature circles around your flare.
How burnt in your flash of sight!

کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا پھُونکا ہُوا ہے کیا تری برقِ نگاہ کا؟
آزارِ موت میں اسے آرامِ جاں ہے کیا؟
شعلے میں تیرے زندگیِ جاوداں ہے کیا؟

معانی: آزار: تکلیف، دکھ ۔ آرامِ جاں : روح کا سکون ۔ زندگی جاوداں : ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ۔
Azaar-e-Mout Mein Isse Aram-e-Jaan Hai Kya?
Shaole Mein Tere Zindagi-e-Javidan Hai Kya?

Does it know life’s peace in the throes of death?
Life endures in your ardour bright?

آزارِ موت میں اسے آرامِ جاں ہے کیا؟ شعلے میں تیرے زندگیِ جاوداں ہے کیا؟
غم خانۀ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخلِ تمنا ہرا نہ ہو

معانی: غم خانہَ جہاں : مراد یہ دنیا جو دکھوں کا گھر ہے ۔ تفتہ دل: جس کا دل جلا ہو، مراد عشق ۔ نخلِ تمنا: خواہش کا درخت ۔ ہرا ہونا: سرسبز ہونا ۔
Ghumkhana-e-Jahan Mein Jo Teri Zia Na Ho
Iss Tafta Dil Ka Nakhle-e-Tamana Hara Na Ho

Had your lustre not been in the world’s house of woe
The tree of hot love had not been green.

غم خانۀ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو اس تفتہ دل کا نخلِ تمنا ہرا نہ ہو
گِرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے
ننھّے سے دل میں لذّتِ سوز و گداز ہے

معانی: حضور: خدمت ۔ لذتِ سوز و گداز: عشق کی تپش اور گرمی کا مزہ ۔
Girna Tere Huzoor Mein Iss Ki Namaz Hai
Nanhe Se Dil Mein Lazzat-e-Souz-o-Gudaz Hai

Moth sinks before you making its prayer,
Frail heart to feel scorching keen.

گِرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے ننھّے سے دل میں لذّتِ سوز و گداز ہے
کچھ اس میں جوشِ عاشقِ حُسنِ قدیم ہے
چھوٹا سا طُور تُو، یہ ذرا سا کلیمِ ہے

معانی: حسنِ قدیم: مراد محبوب حقیقی کا حسن و جمال ۔ کلیم: مراد حضرت موسیٰ جیسا ۔
Kuch Iss Mein Josh-e-Ashiq-e-Husn-e-Qadeem Hai
Chota Sa Toor Tu, Ye Zara Sa Kaleem Hai

It must throb like one loving the beauty of old:
Small prophet! small mountain of fire!

کچھ اس میں جوشِ عاشقِ حُسنِ قدیم ہے چھوٹا سا طُور تُو، یہ ذرا سا کلیمِ ہے
پروانہ، اور ذوقِ تماشائے روشنی
کِیڑا ذرا سا، اور تمنّائے روشنی!

معانی: تماشائے روشنی: روشنی دیکھنے کا عمل ۔
Parwana, Aur Zauq-e-Tamashaye Roshni
Keera Zara Sa, Aur Tamanaye Roshni!

The moth with its urge to envisage the flame!
Poor worm, with its light’s desire!

پروانہ، اور ذوقِ تماشائے روشنی کِیڑا ذرا سا، اور تمنّائے روشنی!